السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أحيا أرضا ميتة ليست لأحد، ولا في حق أحد، فهي له باب: ”جس شخص نے کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جو نہ کسی کی ملکیت ہو اور نہ کسی کے حق میں آتی ہو تو وہ اسی کی ہے“۔
حدیث نمبر: 11775
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " قَالَ: وَقَالَ هِشَامٌ: الْعِرْقُ الظَّالِمُ أَنْ يَأْتِيَ مَالَ غَيْرِهِ فَيَحْفِرَ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
عروہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مردہ زمین آباد کی وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“ ہشام کہتے ہیں: «الْعِرْقُ الظَّالِمُ» کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کے مال پر قبضہ کرلے پھر اس میں کنواں کھود لے۔