السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما يستحب من حفظ المنطق في الزرع باب: کھیتی باڑی کے دوران زبان (کی گفتگو) کی حفاظت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11752
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ، جَارُ عُبَيْدٍ الْعِجْلِيِّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُسْلِمٌ الْجَرْمِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: حَرَثْتُ " قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: ٦٤].حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے کھیتی تیار کی بلکہ یوں کہے کہ میں نے بوئی۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] ”پس تمہارا کیا خیال ہے جو تم بوتے ہو کیا تم اسے کھیتی بناتے ہو یا ہم اسے بنانے والے ہیں؟“