السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في نصب الجماجم لأجل العين باب: نظرِ بد سے بچنے کے لیے (کھیتوں میں) کھوپڑیاں گاڑنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11753
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ ⦗٢٢٩⦘ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِتِلْكَ الْجَمَاجِمِ تُجْعَلُ فِي الزَّرْعِ مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ " هَذَا مُنْقَطِعٌ وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ تُحِبُّونَ الْمَاشِيَةَ فَأَقِلُّوا مِنْهَا؛ فَإِنَّكُمْ بِأَقَلِّ الْأَرْضِ مَطَرًا، وَاحْتَرِثُوا؛ فَإِنَّ الْحَرْثَ مُبَارَكٌ، وَأَكْثَرُوا فِيهِ مِنَ الْجَمَاجِمِ " وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
عمر بن علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس کھاد کو زمین میں ڈالنے کا حکم دیا تاکہ عمدہ فصل حاصل ہو۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو فرمایا: ”اے قریش! تم مویشی پسند کرتے ہو، ان میں کمی کرو اس لیے کہ تمہارے پاس بارش والی زمین کم ہے اور کھیتی باڑی کرو، کھیتی باڑی میں برکت ہوتی ہے اور اس میں یہ کھاد ڈالا کرو۔“