السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من زرع في أرض غيره بغير إذنه أو بإذنه على سبيل المزارعة باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر، یا اس کی اجازت سے مزارعت کے طور پر کھیتی باڑی کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ قَالَ: بَعَثَنِي عمي أَنَا وَغُلَامًا لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي حَدِيثٍ، فَأَتَاهُ، فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ فَقَالَ: " مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ "، فَقَالُوا: لَيْسَ لِظُهَيْرٍ، قَالَ: " ⦗٢٢٦⦘ أَلَيْسَ أَرْضَ ظُهَيْرٍ؟ " قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ، قَالَ: " فَخُذُوا زَرْعَكُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ "، قَالَ رَافِعٌ: فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ. قَالَ سَعِيدٌ: أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكِرْهُ بِالدَّرَاهِمِ. ظَاهِرُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الزَّرْعَ يَتْبَعُ الْأَرْضَ، وَفُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ عَلَى أَنَّ الزَّرْعَ يَتْبَعُ الْبَذْرَ، وَلَوْ ثَبَتَ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِي خِلَافِهَا حُجَّةٌ، إِلَّا أَنَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ يَنْفَرِدُ بِهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لَا يَرْوِي عَنْهُ، وَيُضَعِّفُ حَدِيثَهُ جِدًّا، ثُمَّ هُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ: الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَلْقَ عَطَاءً رَافِعًا.ابو جعفر خطمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے میرے چچا نے اپنے ایک غلام کے ساتھ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیجا، ہم نے ان سے پوچھا کہ زراعت کے بارے میں آپ سے ہمیں کچھ خبر ملی ہے تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ملی۔ آپ ﷺ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ ﷺ بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ ﷺ نے ظہیر کی زمین میں زراعت دیکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کتنی اچھی کھیتی ہے ظہیر کی۔“ انہوں نے کہا: یہ کھیتی ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: زمین ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی زراعت لے لو اور خرچ لوٹا دو۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور خرچہ لوٹا دیا۔ سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اپنے بھائی کو دے دو یا درہموں کے بدلے کرایہ پر دے دو۔