السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من زرع في أرض غيره بغير إذنه أو بإذنه على سبيل المزارعة باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر، یا اس کی اجازت سے مزارعت کے طور پر کھیتی باڑی کی۔
حدیث نمبر: 11744
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي، بِهُرَاةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ بُكَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا أَخَذَهَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِي زَرْعَهُ فَسَأَلَهُ: " لِمَنْ هَذَا؟ " فَقَالَ: الزَّرْعُ لِي، وَهِيَ أَرْضُ بَنِي فُلَانٍ أَخَذْتُهَا، لِيَ الشَّطْرُ وَلَهُمُ الشَّطْرُ، قَالَ: فَقَالَ: " انْفُضْ يَدَكَ مِنْ غُبَارِهَا، وَرُدَّ الْأَرْضَ إِلَى أَهْلِهَا، وَخُذْ نَفَقَتَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخَذَ نَفَقَتَهُ وَرَدَّ إِلَيْهِمْ أَرْضَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے بنی فلاں کی زمین میں زراعت کی۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں کھیتوں کو پانی دے رہا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کس کے کھیت ہیں؟“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: کھیت میرے ہیں اور زمین بنی فلاں کی ہے، میں نے اس سے نصف پر لی ہے اور نصف اس کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے غبار سے اپنے ہاتھوں کو جھاڑ لے اور زمین مالک کو دے دے اور اپنا خرچہ لے لے۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا، میں نے ان کو خبر دی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اور اپنا خرچ لیا اور ان کو ان کی زمین لوٹا دی۔