السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من زرع في أرض غيره بغير إذنه أو بإذنه على سبيل المزارعة باب: جس شخص نے کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر، یا اس کی اجازت سے مزارعت کے طور پر کھیتی باڑی کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ عَطَاءً عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ مُرْسَلٌ، حَتَّى تَبَيَّنَ لِي أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلٌ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ قِيمَةُ نَفَقَتِهِ " قَالَ يُوسُفُ: غَيْرُ حَجَّاجٍ لَا يَقُولُ عَبْدَ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو إِسْحَاقَ كَانَ يُدَلِّسُ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُونَ: عَطَاءٌ عَنْ رَافِعٍ مُنْقَطِعٌ. وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَا يَثْبُتُ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُوسَى بْنِ هَارُونَ الْحَمَّالِ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ وَيُضَعِّفُهُ وَيَقُولُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ غَيْرُ شَرِيكٍ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ غَيْرُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْئًا، قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، وَعُقْبَةُ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ⦗٢٢٧⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ رَافِعٍ فَبُكَيْرٌ وَإِنِ اسْتَشْهَدَ بِهِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الثَّالِثُ فَرَوَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْخَطْمِيُّ، وَلَمْ أَرَ الْبُخَارِيَّ وَلَا مُسْلِمًا احْتَجَّا بِهِ فِي حَدِيثٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَعْنَاهُ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی، اس کے لیے زراعت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اسے اس کے خرچ کی قیمت دے دی جائے گی۔“
ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا تھا کہ عطاء کی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، یہاں تک کہ مجھ پر واضح ہوا کہ ابو اسحاق کی عطاء سے روایت بھی مرسل ہے۔ یوسف کہتے ہیں: حجاج کے علاوہ کوئی عبدالعزیز (بن رفیع) کا ذکر نہیں کرتا، وہ کہتے ہیں: ابو اسحاق سے، وہ عطاء سے۔ ابو اسحاق تدلیس کرتے تھے اور اہل علم حدیث کہتے ہیں: عطاء کی رافع سے روایت منقطع ہے۔ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ماہرینِ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے؛ موسیٰ بن ہارون حمال اس حدیث کا انکار کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے تھے اور کہتے تھے: اسے ابو اسحاق سے شریک کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء سے ابو اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور عطاء نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسے عقبہ بن اصم نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، لیکن عقبہ ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔ رہی بکیر بن عامر بجلی کی ابن ابی نعم سے، رافع رضی اللہ عنہ سے روایت، تو بکیر سے اگرچہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں استشہاد کیا ہے، لیکن یحییٰ بن سعید قطان، حفص بن غیاث، احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور تیسری حدیث کو ابو جعفر عمیر بن یزید خطمی نے روایت کیا ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ امام بخاری یا امام مسلم نے کسی حدیث میں اس سے حجت لی ہو، واللہ اعلم۔ اور رفاعہ بن رافع بن خدیج سے بھی نبی ﷺ سے اسی معنی کی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔