السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11738
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرَضَهُ، فَأُخْبِرَ بِحَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ قَدْ كَانُوا يُعْطُونَ أَرَضِيهِمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَشْتَرِطُ صَاحِبُ الْأَرْضِ لِيَ الْمَاذِيَانَاتِ وَمَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَيَشْتَرِطُ مِنَ الْجَرِينِ نَصِيبًا مَعْلُومًا، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَظُنُّ أَنَّ النَّهْيَ لِمَا كَانُوا يَشْتَرِطُونَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر دیتے تھے، ان کو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی خبر دی گئی تو وہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے سوال کیا، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم جانتے ہو کہ زمینوں والے نبی ﷺ کے زمانہ میں زمینیں (کرایے پر) دیتے تھے اور مالک نہر کے کنارے، فصل کے پانی اور معلوم حصے کی شرط لگاتے تھے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خیال کرتے تھے کہ منع ان شرائط کی وجہ سے ہے۔