السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11739
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُزَارَعَةِ " أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ يَشْتَرِطُ ثَلَاثَةَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا زَعَمَ أَنَّ الْأَخْبَارَ الَّتِي وَرَدَ النَّهْيُ فِيهَا عَنْ كِرَائِهَا بِالنِّصْفِ أَوِ الثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ إِنَّمَا هُوَ لِمَا كَانُوا يُلْحِقُونَ بِهِ مِنَ الشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ، فَقَصَرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِذِكْرِهَا، وَقَدْ ذَكَرَهَا بَعْضُهُمْ، وَالنَّهْيُ يَتَعَلَّقُ بِهَا دُونَ غَيْرِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسید بن ظہیر بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے مزارعت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک تین نالیوں کی، قصارہ (گاہنے کے بعد سٹے میں بچ جانے والے دانوں) کی اور جسے چھوٹی نہر سیراب کرے اس کی شرط لگاتا تھا، پس نبی ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اور اس طرف گیا کہ وہ اخبار جو نہی پر وارد ہوتی ہیں نصف، ثلث اور ربع کرایہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ فاسد شرطیں لگاتے تھے۔ بعض راویوں نے اس کے ذکر میں تقصیر کی اور بعض نے ان کو ذکر دیا اور نہی کا تعلق انہی سے ہے اس کے علاوہ سے نہیں۔