السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الِإسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللهِ كُنْتُ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ "، فَسَمِعَ قَوْلَهُ: " لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ " قَالَ الشَّيْخُ: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَأَنَّهُمَا أَنْكَرَا وَاللهُ أَعْلَمُ إِطْلَاقَ النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، وَعَنَى ابْنُ عَبَّاسٍ بِمَا لَمْ يَنْهَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ كِرَاءَهَا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَبِمَا لَا غَرَرَ فِيهِ، وَقَدْ قَيَّدَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ رَافِعٍ الْأَنْوَاعَ الَّتِي وَقَعَ النَّهْيُ عَنْهَا، وَبَيَّنَ عِلَّةَ النَّهْيِ وَهِيَ مَا يُخْشَى عَلَى الزَّرْعِ مِنَ الْهَلَاكِ، وَذَلِكَ غَرَرٌ فِي الْعِوَضِ يُوجِبُ فَسَادَ الْعَقْدِ، وَإِنْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنَى بِمَا لَمْ يَنْهَ عَنْهُ كِرَاءَهَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَقَدْ رُوِّينَا عَمَّنْ سَمِعَ نَهْيَهُ عَنْهُ، فَالْحُكْمُ لَهُ دُونَهُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا يُوَافِقُ رِوَايَةَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَغَيْرِهِ، فَدَلَّ أَنَّ مَا أَنْكَرَهُ غَيْرُ مَا أَثْبَتَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، ⦗٢٢٣⦘ وَمِنَ الْعُلَمَاءِ مَنْ حَمَلَ أَخْبَارَ النَّهْيِ عَلَى مَا لَوْ وَقَعَتْ بِشُرُوطٍ فَاسِدَةٍ نَحْوَ شَرْطِ الْجَدَاوِلِ وَالْمَاذِيَانَاتِ، وَهِيَ الْأَنْهَارُ، وَهِيَ مَا كَانَ يُشْتَرَطُ عَلَى الزَّارِعِ أَنْ يَزْرَعَهُ عَلَى هَذِهِ الْأَنْهَارِ خَاصَّةً لِرَبِّ الْمَالِ، وَنَحْوُ شَرْطِ الْقُصَارَةِ، وَهِيَ مَا بَقِيَ مِنَ الْحَبِّ فِي السُّنْبُلِ بَعْدَمَا يُدَاسُ، وَيُقَالُ: الْقُصَرَّى، وَنَحْوُ شَرْطِ مَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَهُوَ النَّهَرُ الصَّغِيرُ مِثْلُ الْجَدْوَلِ وَالسَّرِيِّ وَنَحْوِهِ، وَجَمْعُهُ أَرْبِعَاءُ كَمَا قَالُوا، فَكَانَتْ هَذِهِ وَمَا أَشْبَهَهَا شُرُوطًا شَرَطَهَا رَبُّ الْمَالِ لِنَفْسِهِ خَاصَّةً سِوَى الشَّرْطِ عَلَى النِّصْفِ وَالرُّبُعِ وَالثُّلُثِ، فَيَرَى أَنَّ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ إِنَّمَا كَانَ لِهَذِهِ الشُّرُوطِ؛ لِأَنَّهَا مَجْهُولَةٌ، فَإِذَا كَانَتِ الْحِصَصُ مَعْلُومَةً نَحْوَ النِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَكَانَتِ الشُّرُوطُ الْفَاسِدَةُ مَعْدُومَةً، كَانَتِ الْمُزَارَعَةُ جَائِزَةً، وَإِلَى هَذِهِ ذَهَبَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَأَبُو عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَإِلَيْهِ ذَهَبَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّأْيِ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي مَضَتْ فِي مُعَامَلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَرْطِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ دَلِيلٌ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَضَعَّفَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَقَالَ: هُوَ كَثِيرُ الْأَلْوَانِ، يُرِيدُ مَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ.سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، اللہ کی قسم! میں اس سے حدیث کو زیادہ جانتا ہوں۔ آپ ﷺ کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، وہ دونوں لڑتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہارا یہ معاملہ ہے تو کھیت کرایہ پر نہ دیا کرو۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے یہ لفظ سن لیے: «لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ» ”مزارعت کو کرایہ پر نہ دو۔“
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے اس کا انکار کیا ہے، واللہ اعلم، کہ مزارعت کو کرایہ پر دینے کی نہی مطلق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نہی سے مراد یہ ہے کہ جس سے منع نہیں کیا گیا وہ اس کا سونے، چاندی اور ایسی چیز کے ساتھ کرایہ پر دینا ہے جس میں دھوکا نہیں ہے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے جو روایت منقول ہے، انہوں نے بعض انواع کو مقید کیا ہے، جن میں نہی واقع نہیں ہے اور نہی کی علت بیان کی ہے اور وہ کھیتی کی بربادی (ہلاکت) کا ڈر ہے؛ کیونکہ اس میں دھوکا ہے، جو عقد کے فساد کو واجب کرتا ہے۔ اگرچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد وہ ہے جس میں بعض چیزوں میں کرایہ لینے سے منع نہیں کیا گیا، وہ اس نہی سے خارج رہیں تو ہم نے آپ ﷺ سے نہی سنی ہے، اسے روایت کیا ہے تو اس کا دوسرا حکم ہے۔ ہم نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے جو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت کے موافق ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس کا انہوں نے انکار کیا ہے، اس کے علاوہ دوسروں نے اس کا اثبات کیا ہے، واللہ اعلم۔ بعض علماء نے نہی والی احادیث کو شروطِ فاسدہ والی مزارعت پر محمول کیا ہے، جیسے کھالوں اور نہروں کی شرط کسان پر کس طرح ہے کہ ان نہروں کی کھیتی (زراعت) صرف مالک کے لیے ہے۔ اسی طرح شرطِ قصارہ: یعنی سٹے میں جو دانہ باقی رہے گا اس کو گاہنے کے بعد قصری کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہ شرط جس کو چھوٹی نہر سیراب کرے جیسے نالیاں وغیرہ جیسا کہ انہوں نے کہا، یہ شرطیں اور جو ان کے مشابہ ہیں مالک خاص اپنے لیے لگاتا ہے۔ نصف، ربع، ثلث کے علاوہ تو ہم دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مزارعت سے منع کیا ان شرطوں کی وجہ سے۔ جب حصے معلوم ہوں جیسے نصف، ربع، ثلث تو شروطِ فاسدہ معدوم ہوجائیں گی اور مزارعت جائز ہوجائے گی۔ یہی مذہب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ہے اور اسی کو ابوعبید، محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور دوسرے اہل حدیث، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور محمد بن حسن جو اصحابِ رائے میں سے ہیں، انہوں نے اس کو اختیار کیا ہے اور نبی ﷺ کی احادیث جو اہل خیبر کے ساتھ نصف آمدنی کے متعلق ہیں، جو ان کے پھل اور کھیتی پر لگائی تھی کہ اناج ان سے ملے گا وہ اس مسئلہ میں دلیل ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے رافع بن خدیج والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں بہت اختلاف ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ متن اور سند میں اختلاف ہے۔