السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ؛ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَيْ عَمْرُو، إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ وَلَكِنْ قَالَ: " أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں! وہ گمان کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے اس سے منع کیا ہے، عمرو نے کہا: میں ان کو دیتا تھا اور ان کی حدود کرتا تھا اور میں سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین دے تو اس سے کرایہ لے لے۔“