السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11735
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا مَنَحَهَا أَخَاهُ "، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے جب اکثر لوگوں سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سنا تو کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! اپنے بھائی کو دے دو“ اور آپ ﷺ نے کرایہ سے منع نہیں کیا۔