السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11733
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: مَا كُنَّا نَكْرَهُ الْمُزَارَعَةَ حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ " وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَقَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا مَعْلُومًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ دُونَ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَافِعٍ وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ہم مزارعت کو مکروہ نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے مزارعت سے منع نہیں کیا اور فرمایا: ”اگر آدمی اپنے بھائی کو زمین دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس سے کرایہ لے۔“