السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11732
أَخْبَرَنَا أَبُوْ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ مُجَاهِدًا قَالَ لِطَاوُسٍ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَأَسْمَعَ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَانْتَهَرَهُ وَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ نے طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے ساتھ رافع کے بیٹے کی طرف چلو، اس سے حدیث سنیں، وہ اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں۔ طاؤس رحمہ اللہ نے اس کو ڈانٹا اور کہا: اگر میں جانتا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے تو میں نہ کرتا، لیکن اس نے حدیث بیان کی ہے جو ان میں سے زیادہ عالم ہے یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین ہدیہ کرے تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس سے کرایہ لے لے۔“