السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11731
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ اسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ " قَالَ: وَأَنْبَأَ مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ شَبِيهًا بِهِ، قَالَ: وَأَنْبَأَ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابِ عَنْ سَالِمٍ مِثْلَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(٤) باب: «مَنْ أَبَاحَ الْمُزَارَعَةَ بِجُزْءٍ مَعْلُومٍ مُشَاعٍ وَحَمَلَ النَّهْيَ عَنْهَا عَلَى التَّنْزِيهِ أَوْ عَلَى مَا لَوْ تَضَمَّنَ الْعَقْدُ شَرْطًا فَاسِدًا»
”جس نے مزارعت کو مشترک معلوم حصے کے عوض مباح کیا اور نہی کو تنزیہی پر محمول کیا یا یہ کہ معاملہ میں شرطِ فاسد ہو“