السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11730
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّ أَمْثَلَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ تَسْتَأْجِرُوا الْأَرْضَ الْبَيْضَاءَ لَيْسَ فِيهَا شَجَرٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”جو تم صاف زمین میں جس میں کوئی درخت نہ ہو کام کرتے ہو اس پر اجرت لو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے زمین کے کرائے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میرا اونٹ اور میری زمین برابر ہیں۔“