السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11729
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ، أَمَرَنَا بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ہم نے ان سے زراعت کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: ثابت کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مزارعت سے منع کیا اور ہمیں اجرت کا حکم دیا“ اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“