السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ " قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ؟ قَالَ: " أَنْ يَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ رُبُعٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ سے منع فرمایا۔ میں نے سوال کیا: مخابرہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو زمین نصف، ثلث یا ربع پر حاصل کرے۔“