السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ: " لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟ " فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي، لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: " أَرْبَيْتُمَا "، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ زمین میں کھیتی باڑی کرتے تھے، پھر نبی ﷺ پاس سے گزرے اور وہ پانی لگا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس کے لیے زراعت کر رہے ہو اور زمین کس کی ہے؟“ رافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میری زراعت، میرے بیج اور میرے کام کی وجہ سے نصف میرا اور نصف بنی فلاں کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سودی لین دین کیا ہے، تو زمین اس کے مالک پر لوٹا دے اور اپنا خرچ لے لے۔“