السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11725
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ: " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”تین طرح زراعت کی جاسکتی ہے: زمین کا مالک کھیتی باڑی کرے اور وہ آدمی جسے زمین دی جائے وہ زراعت کرے اور وہ آدمی جو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔“