حدیث نمبر: 117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ يَتَوَضَّأُ وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ. قُلْنَا: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا تو آپ کے اہل میں سے جو گھر کے قریب تھا وہ وضو کے لیے کھڑا ہوا اور باقی لوگ بھی۔ نبی ﷺ کے پاس پتھر کا بنا ہوا برتن جو کپڑوں کو رنگنے کے لیے تھا اس میں پانی تھا وہ لایا گیا تو وہ برتن (والا پانی) کم پڑ گیا، آپ ﷺ نے اس میں اپنی ہتھیلی پھیلائی تو تمام لوگوں نے وضو کیا۔ ہم نے پوچھا: ”ان کی تعداد کتنی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”اسی سے زیادہ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 117