السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: ما جاء في تضمين الأجراء باب: مزدوروں (اجیروں) پر تاوان عائد کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11670
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْقَصَّارِ، فَقَالَ: " يُضَمَّنُ " فَبَلَغَنِي عَنْ حَمَّادٍ أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُضَمَّنُ "، قَالَ: فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا أَدْرِي رَأَيْتُكَ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ قَطُّ أَمْ لَا؟ فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؛ فَإِنَّ هَذَا يَشُقُّ عَلَيَّ " وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے دھوبی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ضامن ہے۔
پھر مجھے حماد سے یہ بات پہنچی کہ وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: وہ ضامن نہیں ہے۔ میں ان سے ملا اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میں نے تمہیں کبھی ابراہیم کے پاس دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا: اے ابو محمد! ایسا نہ کرو، یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ واللہ اعلم۔