کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مزدوروں (اجیروں) پر تاوان عائد کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْأَصَمِّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: قَدْ ذَهَبَ إِلَى تَضْمِينِ الْقَصَّارِ شُرَيْحٌ، فَضَمَّنَ قَصَّارًا احْتَرَقَ بَيْتُهُ فَقَالَ: تُضَمِّنُنِي وَقَدِ احْتَرَقَ بَيْتِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " أَرَأَيْتَ لَوِ احْتَرَقَ بَيْتُهُ كُنْتَ تَتْرُكُ لَهُ أَجْرَكَ؟ " أَخْبَرَنَا بِهَذَا عَنْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ مِثْلَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ضَمَّنَ الْغَسَّالَ وَالصَّبَّاغَ وَقَالَ: لَا يُصْلِحُ النَّاسَ إِلَّا ذَلِكَ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قاضی شریح رحمہ اللہ دھوبی کو ضامن ٹھہرانے کے قائل تھے، چنانچہ انہوں نے ایک دھوبی کو ضامن ٹھہرایا جس کا گھر جل گیا تھا، اس نے کہا: آپ مجھے ضامن بناتے ہیں جبکہ میرا گھر جل گیا ہے؟ تو قاضی شریح نے کہا: تیری کیا رائے ہے، اگر اس کا گھر جل جاتا تو کیا تو اس کے لیے اپنی اجرت چھوڑ دیتا؟ یہ خبر ابن عیینہ نے بیان کی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک ایسی سند سے، جس جیسی کو محدثین ثابت نہیں مانتے، روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دھوبی اور رنگریز کو ضامن ٹھہرایا اور فرمایا: لوگوں کی اصلاح اسی سے ہو سکتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک ایسی سند سے، جس جیسی کو محدثین ثابت نہیں مانتے، روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دھوبی اور رنگریز کو ضامن ٹھہرایا اور فرمایا: لوگوں کی اصلاح اسی سے ہو سکتی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ ذَلِكَ. قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ تَضْمِينُ بَعْضِ الصُّنَّاعِ مِنْ وَجْهٍ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا، وَلَمْ نَعْلَمْ وَاحِدًا مِنْهُمَا يَثْبُتُ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُضَمِّنُ أَحَدًا مِنِ الْأُجَرَاءِ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ. وَثَابِتٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا ضَمَانَ عَلَى صَانِعٍ، وَلَا عَلَى أَجِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہی بات فرمائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ شُبَّانَ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُضَمِّنُ الصَّبَّاغَ وَالصَّائِغَ وَقَالَ: " لَا يَصْلُحُ لِلنَّاسِ إِلَّا ذَاكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ رنگریز اور سنار کو ضامن ٹھہراتے تھے اور فرمایا: لوگوں کے لیے اس کے سوا کچھ درست نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ شُبَّانَ، ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا " كَانَ يَضْمَنُ الْأَجِيرَ " حَدِيثُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلٌ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يُضَعِّفُونَ أَحَادِيثَ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ يَضْمَنُ الْأَجِيرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مزدور کو ضامن ٹھہرایا کرتے تھے۔
جابر جعفی نے، جو ضعیف ہے، شعبی سے نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مزدور کو ضامن ٹھہرایا کرتے تھے۔
جعفر کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور محدثین خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
جابر جعفی نے، جو ضعیف ہے، شعبی سے نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مزدور کو ضامن ٹھہرایا کرتے تھے۔
جعفر کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اور محدثین خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ ⦗٢٠٣⦘ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: شَهِدْتُ شُرَيْحًا " ضَمَّنَ قَصَّارًا أَوْ صَبَّاغًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں شریح رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے ایک دھوبی یا رنگریز کو ضامن ٹھہرایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ أَنَّهُ قُدِّمَ دُهْنٌ لَهُ مِنَ الْبَصْرَةِ، وَأَنَّهُ اسْتَأْجَرَ حَمَّالًا يَحْمِلُهُ، وَالْقَارُورَةُ ثَمَنُهَا ثَلَاثُمِائَةٍ أَوْ أَرْبَعُمِائَةٍ، فَوَقَعَتِ الْقَارُورَةُ وَانْكَسَرَتْ، فَأَرَدْتُ أَنْ يُصَالِحَنِي، فَأَبَى، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ: " إِنَّمَا أَعْطَى الْأَجْرَ لِتُضَمِّنَ " فَضَمَّنَهُ شُرَيْحٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلِ النَّاسُ حَتَّى صَالَحْتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ، ابو الہیثم سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا تیل بصرہ سے لایا گیا، انہوں نے اسے اٹھانے کے لیے ایک مزدور اجرت پر رکھا اور تیل والا برتن تین یا چار سو کا تھا، وہ گر کر ٹوٹ گیا، میں نے ارادہ کیا کہ ان سے صلح ہو جائے لیکن انہوں نے انکار کر دیا، میں شریح رحمہ اللہ کے پاس یہ معاملہ لے کر گیا، شریح رحمہ اللہ نے ان سے کہا کہ اس نے اجرت اس لیے دی تھی کہ آپ ذمہ دار ہیں، قاضی شریح رحمہ اللہ نے اسے ضامن ٹھہرایا، پھر لوگ ہمیشہ کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ میری ان سے صلح ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْقَصَّارِ، فَقَالَ: " يُضَمَّنُ " فَبَلَغَنِي عَنْ حَمَّادٍ أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُضَمَّنُ "، قَالَ: فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا أَدْرِي رَأَيْتُكَ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ قَطُّ أَمْ لَا؟ فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؛ فَإِنَّ هَذَا يَشُقُّ عَلَيَّ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے دھوبی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ضامن ہے۔
پھر مجھے حماد سے یہ بات پہنچی کہ وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: وہ ضامن نہیں ہے۔ میں ان سے ملا اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میں نے تمہیں کبھی ابراہیم کے پاس دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا: اے ابو محمد! ایسا نہ کرو، یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ واللہ اعلم۔
پھر مجھے حماد سے یہ بات پہنچی کہ وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: وہ ضامن نہیں ہے۔ میں ان سے ملا اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ میں نے تمہیں کبھی ابراہیم کے پاس دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا: اے ابو محمد! ایسا نہ کرو، یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ واللہ اعلم۔