❮
❯
حدیث نمبر: 11665
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ ذَلِكَ. قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ تَضْمِينُ بَعْضِ الصُّنَّاعِ مِنْ وَجْهٍ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا، وَلَمْ نَعْلَمْ وَاحِدًا مِنْهُمَا يَثْبُتُ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُضَمِّنُ أَحَدًا مِنِ الْأُجَرَاءِ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ. وَثَابِتٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا ضَمَانَ عَلَى صَانِعٍ، وَلَا عَلَى أَجِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ

جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہی بات فرمائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11665
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الام 4/41»