السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: ما جاء في تضمين الأجراء باب: مزدوروں (اجیروں) پر تاوان عائد کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11665
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ ذَلِكَ. قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ تَضْمِينُ بَعْضِ الصُّنَّاعِ مِنْ وَجْهٍ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا، وَلَمْ نَعْلَمْ وَاحِدًا مِنْهُمَا يَثْبُتُ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُضَمِّنُ أَحَدًا مِنِ الْأُجَرَاءِ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ. وَثَابِتٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا ضَمَانَ عَلَى صَانِعٍ، وَلَا عَلَى أَجِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے کہ آپ کسی کی اجرت پر ضامن نہیں بنتے تھے اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔