❮
❯
حدیث نمبر: 11664
فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْأَصَمِّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: قَدْ ذَهَبَ إِلَى تَضْمِينِ الْقَصَّارِ شُرَيْحٌ، فَضَمَّنَ قَصَّارًا احْتَرَقَ بَيْتُهُ فَقَالَ: تُضَمِّنُنِي وَقَدِ احْتَرَقَ بَيْتِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " أَرَأَيْتَ لَوِ احْتَرَقَ بَيْتُهُ كُنْتَ تَتْرُكُ لَهُ أَجْرَكَ؟ " أَخْبَرَنَا بِهَذَا عَنْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ مِثْلَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ضَمَّنَ الْغَسَّالَ وَالصَّبَّاغَ وَقَالَ: لَا يُصْلِحُ النَّاسَ إِلَّا ذَلِكَ..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قاضی شریح رحمہ اللہ دھوبی کو ضامن ٹھہرانے کے قائل تھے، چنانچہ انہوں نے ایک دھوبی کو ضامن ٹھہرایا جس کا گھر جل گیا تھا، اس نے کہا: آپ مجھے ضامن بناتے ہیں جبکہ میرا گھر جل گیا ہے؟ تو قاضی شریح نے کہا: تیری کیا رائے ہے، اگر اس کا گھر جل جاتا تو کیا تو اس کے لیے اپنی اجرت چھوڑ دیتا؟ یہ خبر ابن عیینہ نے بیان کی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک ایسی سند سے، جس جیسی کو محدثین ثابت نہیں مانتے، روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دھوبی اور رنگریز کو ضامن ٹھہرایا اور فرمایا: لوگوں کی اصلاح اسی سے ہو سکتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11664
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الام 4/41»