السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: ما يستحب من تأخير الأحمال؛ ليكون أسهل على الجمال وغيرها باب: بوجھ کو (سواری کی پیٹھ پر) پیچھے کی طرف رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان؛ تاکہ اونٹوں اور دیگر جانوروں پر آسانی رہے۔
حدیث نمبر: 11661
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنَادِي: " أَخِّرُوا الْأَحْمَالَ؛ فَإِنَّ الْأَيْدِيَ مُعَلَّقَةٌ، وَالْأَرْجُلَ مُوثَقَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
مسلمہ بن نوفل بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ اعلان کر رہے تھے کہ سواریوں پر سامان آخر میں لادا کرو، بے شک ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں اور پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔