حدیث نمبر: 11660
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ثنا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أَكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي أَنْ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي لَرَجُلٌ أَكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، قَالَ: أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: ١٩٨]، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: " لَكَ حَجٌّ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو امامہ النجی فرماتے ہیں: میں حج میں کرایہ پر جانور دیتا تھا اور لوگ کہتے تھے: تیرا حج نہیں ہے۔ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں کرایہ پر جانور دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں: میرا حج نہیں ہے، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو نے احرام نہیں باندھا؟ اور تلبیہ نہیں پکارا اور بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور عرفات سے نہیں لوٹا اور تو نے رمی حجار نہیں کی؟ ابو امامہ فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا: کیوں نہیں، میں نے سارے کام کیے ہیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تیرا حج درست ہے۔ (پھر فرمایا) ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اسی طرح سوال کیا جس طرح تو نے کیا ہے، آپ ﷺ خاموش رہے، آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔“
پھر آپ ﷺ نے اس آدمی کو بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی، پھر فرمایا: ”تیرا حج درست ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11660
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ 2/155/6434، ابوداؤد1733»