حدیث نمبر: 11662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبِي، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِيهِ بِمِنًى فَسَمِعَ مُنَادِيًا يُنَادِي: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَخِّرُوا الْأَحْمَالَ؛ فَإِنَّ الرِّجْلَ مُوثَقَةٌ، وَإِنَّ الْيَدَ مُعَلَّقَةٌ " فَقُلْتُ لِأَبِي: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عُمَرُ قَالَ يَعْقُوبُ: مَسْلَمَةُ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ

ابومغیرہ ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بتلایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ منیٰ میں تھے، انہوں نے ایک اعلان کرنے والے کو سنا: اے لوگو! سواریوں پر بوجھ آخر میں لادا کرو، بے شک پاؤں مضبوط ہوتے ہیں اور ہاتھ لٹکے ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے والد سے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11662
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»