وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ أنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ الْحَسَنُ بْنُ كَوْثَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاةً لَهَا أَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ صَحْفَةَ هَرِيسَةٍ فَجَاءَتْ بِهَا وَعَائِشَةُ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيْهَا عَائِشَةُ أَنْ ضَعِيهَا فَوَضَعَتْهَا وَعِنْدَ عَائِشَةَ نِسْوَةٌ فَجَاءَتِ الْهِرَّةُ فَأَكَلَتْ مِنْهَا أَكْلَةً - أَوْ قَالَ لُقْمَةً - فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ لِلنِّسْوَةِ: كُلْنَ فَجَعَلْنَ يَتَّقِينَ مَوْضِعَ فَمِ الْهِرَّةِ فَأَخَذَتْهَا عَائِشَةُ فَأَدَارَتْهَا، ثُمَّ أَكَلَتْهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ " وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ فِي مَعْنَاهُ وَفِي مَا ذَكَرْنَاهُ كِفَايَةٌ.داؤد بن صالح تمار اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف حلوے کا پیالہ بطور ہدیہ بھیجا، وہ لے آئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اسے رکھ دے، اس نے رکھ دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں، بلی آئی اور اس میں سے ایک بار کھایا یا ایک لقمہ کھایا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (نماز سے) فارغ ہوئیں تو انہوں نے عورتوں کو کہا: کھاؤ، تو وہ بلی کے منہ کی جگہ سے بچنے لگیں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پکڑ کر گھمایا پھر کھایا اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے، وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے“ نیز میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۔