حدیث نمبر: 11650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ مُجَاهِدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مُعْتَجِرًا بِبُرْدٍ مُشْتَمِلًا فِي خَمِيصَةٍ فَقَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} [الذاريات: ٥٤] لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا أَيْقَنَ بِالْهَلَكَةِ؛ إِذْ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَلَّى عَنَّا حِينَ نَزَلَتْ " وَذَكَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَبَيْنَ يَدَيْ بَابِهَا طِينٌ، قُلْتُ: " تُرِيدِينَ أَنْ تَبُلِّي هَذَا الطِّينَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَشَارَطْتُهَا عَلَى كُلِّ ذَنُوبٍ بِتَمْرَةٍ، فَبَلَلْتُهُ لَهَا وَأَعْطَتْنِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرُوِيَ عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي نَزْعِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَهُودِيٍّ كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي اسْتِقَاءِ رَجُلٍ غَيْرِ مُسَمًّى.
حافظ ثناء اللہ

مجاہد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے: جب یہ آیت ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ﴾ [سورة الذاريات: 54] (پس آپ ان سے منہ پھیر لیں۔ آپ قابل ملامت نہیں ہیں) نازل ہوئی تو ہم میں سے ہر ایک کو فوت ہونے کا یقین ہوگیا جب نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ہم سے منہ پھیر لیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک انصاری عورت کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے کے سامنے مٹی تھی۔ میں نے کہا: تو اسے گوندھنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے شرط لگائی کہ ہر ڈول کے بدلے کھجور دے۔ میں نے اس مٹی کو گوندھا اور اس نے مجھے سولہ کھجوریں دیں۔ میں وہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہودی کے باغ کو پانی لگایا اور ہر ڈول کے بدلے کھجور لی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11650
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»