السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11651
اسْتِدْلَالًا بِمَا رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَالِإجَارَاتُ صِنْفٌ مِنَ الْبُيُوعِ، وَالْجَهَالَةُ فِيهَا غَرَرٌ.حافظ ثناء اللہ
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے جو ہم کتاب البیوع میں نبی کریم ﷺ سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ ﷺ نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا، اور اجارے بھی بیوع ہی کی ایک قسم ہیں، اور ان میں (کسی چیز کا) نامعلوم ہونا دھوکا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُسَاوِمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَايَعُوا بِإِلْقَاءِ الْحَجَرِ، وَمَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَلْيُعْلِمْهُ أَجْرَهُ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ، وَكَذَا فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقِيلَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے اور نہ بولی لگائے اور نہ پتھر پھینکنے سے بیع کرے اور جو اجرت پر کسی کو رکھے، اسے مزدوری طے کر لینی چاہیے۔“