حدیث نمبر: 11636
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ قَالَ: " فَزَادَهُ ذَلِكَ فِيهِ رَغْبَةً، فَقَالَ {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتِيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّالِحِينَ} [القصص: ٢٧] أَيْ فِي حُسْنِ الصُّحْبَةِ وَالْوَفَاءِ بِمَا قُلْتُ، قَالَ مُوسَى {ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ} [القصص: ٢٨]، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ {وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} [القصص: ٢٨]، فَزَوَّجَهُ، وَأَقَامَ مَعَهُ يَكْفِيهِ وَيَعْمَلُ لَهُ فِي رِعَايَةِ غَنَمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ شعیب علیہ السلام نے کہا: ﴿میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں تیرا نکاح ان دو بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کے ساتھ کر دوں گا، اس شرط پر کہ تو میرے ہاں آٹھ سال نوکری کرے۔ پس اگر تو دس سال پورے کرے گا تو تیری طرف سے ہے اور میں ارادہ نہیں رکھتا کہ تجھ پر سختی کروں۔ اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے صالح لوگوں میں پائے گا﴾ [سورة القصص: 27] یعنی رہنے کے اعتبار سے اچھا اور جو میں نے کہا ہے اس کو پورا کرنے میں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿یہ میرے اور تیرے درمیان ہے کہ میں دونوں مدتوں میں سے کسی کو پورا کروں، پس میرے اوپر زیادتی نہ ہو﴾ [سورة القصص: 28] اس نے کہا: ہاں، ﴿اللہ تعالیٰ جو ہم نے کہا اس پر وکیل ہے﴾ [سورة القصص: 28] (یوسف) پس اس (شعیب علیہ السلام) نے اس کے ساتھ بیٹی کی شادی کی اور وہ اس کے ساتھ رہے اور ان کی بکریوں کا کام کرتے رہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11636
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»