حدیث نمبر: 11635
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [الطلاق: 6]، فَأَجَازَ الْإِجَارَةَ عَلَى الرَّضَاعِ، وَقَالَ {قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: 26] إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرَ اللهُ أَنَّ نَبِيًّا مِنْ أَنْبِيَائِهِ آجَرَ نَفْسَهُ حِجَجًا مُسَمَّاةً، مَلَكَ بِهَا بُضْعَ امْرَأَةٍ، فَدَلَّ عَلَى تَجْوِيزِ الْإِجَارَةِ، قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: اسْتَأْجَرَهُ عَلَى أَنْ يَرْعَى لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ ”پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔“ [سورة الطلاق: 6]
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے پر اجارہ (اجرت کا معاملہ) جائز قرار دیا۔
اور فرمایا: ﴿قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ ”ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان! اسے اجرت پر رکھ لیجیے، بے شک بہترین شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔“ [سورة القصص: 26] قصے کے آخر تک۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے انبیاء میں سے ایک نبی نے چند مقررہ سالوں کے لیے خود کو اجرت پر دیا، جس کے بدلے وہ ایک عورت (سے نکاح) کے مالک ہوئے، تو یہ اجارہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے ان کو اس (شرط) پر اجرت پر رکھا تھا کہ وہ ان کی (بکریاں) چرائیں گے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا: مَا عِلْمُكِ بِقُوَّتِهِ وَأَمَانَتِهِ؟ فَقَالَتْ: " أَمَّا قُوَّتُهُ، فَإِنَّهُ رَفَعَ الْحَجَرَ وَحْدَهُ، وَلَا يَطِيقُ رَفْعَهُ إِلَّا عَشَرَةٌ، وَأَمَّا أَمَانَتُهُ، فَقَوْلُهُ: امْشِي خَلْفِي وَصِفِي لِيَ الطَّرِيقَ؛ لَا تَصِفُ الرِّيحُ لِي جَسَدَكِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس قصہ میں منقول ہے کہ ان (عورتوں) کے باپ (شعیب رحمہ اللہ) نے پوچھا: ”تمہیں کیسے علم ہے اس کی قوت اور امانت داری کا؟“ تو اس نے کہا: ”اس کی قوت یہ ہے کہ اس نے اکیلے ہی وہ ڈول کھینچ لیا جسے دس آدمی اٹھاتے تھے اور اس کی امانت اس کا یہ کہنا کہ تو میرے پیچھے چل اور راستہ بتا دینا، یہ اس لیے کہ ہوا تیرا جسم میرے لیے عیاں نہ کر دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المساقاة / حدیث: 11635
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»