السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: من غصب جارية فباعها ثم جاء رب الجارية باب: جس شخص نے کوئی لونڈی غصب کی پھر اسے بیچ دیا، پھر اس لونڈی کا اصل مالک آ گیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ وَجَدَ جَارِيَتَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ قَدْ وَلَدَتْ مِنْهُ، فَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا جَارِيَتُهُ، وَأَقَامَ الَّذِي فِي يَدِهِ الْجَارِيَةُ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا، فَقَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: " يَأْخُذُ صَاحِبُ الْجَارِيَةِ جَارِيَتَهُ، وَيُؤْخَذُ الْبَائِعُ بِالْخَلَاصِ ".عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی لونڈی کسی دوسرے آدمی کے پاس دیکھی اور اس سے بچہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔ اس نے دلیل قائم کی کہ وہ اس کی لونڈی ہے اور جس کے پاس تھی، اس نے بھی دلیل پیش کی کہ اس نے اسے خریدا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لونڈی والا اپنی لونڈی لے لے اور بیچنے والے سے قیمت لی جائے گی۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: قبضہ اس چیز میں نہیں جس کو کسی نے بیچا اور وہ اس کا مالک نہ ہو۔ وہ تو اس کے ساتھی کی ہے اور خریدنے والا بیچنے والے کے پیچھے جائے جو اس نے اسے دیا اور بیچنے والے سے لیا جائے گا جو اس نے دیا تھا۔ زائد نہیں لیا جائے گا اور نہ کوئی اور چیز۔ شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس نے قبضہ کی شرط لگائی تو وہ احمق ہے۔ جو تو نے بیچا اس پہ قائم رہ یا جو تو نے لیا اسے لوٹا دے۔ قبضہ کوئی چیز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ بیچنے والے سے قبضے کے ساتھ لیا جائے گا ان کی مراد قیمت اور بچے کی قیمت ہے، یہ بعد والے قول کے موافق ہے اور اس حدیث کے (بھی موافق ہے) جو ہم نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔