کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس شخص نے کوئی لونڈی غصب کی پھر اسے بیچ دیا، پھر اس لونڈی کا اصل مالک آ گیا۔
حدیث نمبر: 11546
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنُ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنا مال کسی آدمی کے پاس پایا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اور خریدنے والا اس کا پیچھا کرے گا جس نے اسے فروخت کیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الغصب / حدیث: 11546
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 11547
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا بَاعَ جَارِيَةً لِأَبِيهِ، وَأَبُوهُ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَبُوهُ أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ، وَقَدْ وَلَدَتْ مِنَ الْمُشْتَرِي، فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَضَى لِلرَّجُلِ بِجَارِيَتِهِ وَأَمَرَ الْمُشْتَرِي أَنْ يَأْخُذَ بَيِّعَهُ بِالْخَلَاصِ، فَلَزِمَهُ، فَقَالَ أَبُو الْبَائِعِ: مُرْهُ فَلْيُخَلِّ عَنِ ابْنِي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَأَنْتَ فَخَلِّ عَنِ ابْنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی ایک لونڈی بیچ دی اور اس کا باپ موجود نہیں تھا، جب وہ آیا تو اس نے انکار کر دیا کہ وہ بیع کو قائم رکھے اور اس کی لونڈی نے خریدنے والے کے پاس بچہ بھی جنم دیا۔ وہ اپنا جھگڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ آپ نے لونڈی والے کے لیے لونڈی کا فیصلہ کیا اور خریدنے والے کو حکم دیا کہ وہ اپنی قیمت واپس لے لے، پس اس نے ایسا ہی کیا۔ بیچنے والے کے باپ نے کہا: ”اسے کہو کہ میرے بیٹے کو چھوڑ دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تو اس کے بیٹے کو چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الغصب / حدیث: 11547
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 11548
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ وَجَدَ جَارِيَتَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ قَدْ وَلَدَتْ مِنْهُ، فَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا جَارِيَتُهُ، وَأَقَامَ الَّذِي فِي يَدِهِ الْجَارِيَةُ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا، فَقَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: " يَأْخُذُ صَاحِبُ الْجَارِيَةِ جَارِيَتَهُ، وَيُؤْخَذُ الْبَائِعُ بِالْخَلَاصِ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی لونڈی کسی دوسرے آدمی کے پاس دیکھی اور اس سے بچہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔ اس نے دلیل قائم کی کہ وہ اس کی لونڈی ہے اور جس کے پاس تھی، اس نے بھی دلیل پیش کی کہ اس نے اسے خریدا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لونڈی والا اپنی لونڈی لے لے اور بیچنے والے سے قیمت لی جائے گی۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: قبضہ اس چیز میں نہیں جس کو کسی نے بیچا اور وہ اس کا مالک نہ ہو۔ وہ تو اس کے ساتھی کی ہے اور خریدنے والا بیچنے والے کے پیچھے جائے جو اس نے اسے دیا اور بیچنے والے سے لیا جائے گا جو اس نے دیا تھا۔ زائد نہیں لیا جائے گا اور نہ کوئی اور چیز۔ شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس نے قبضہ کی شرط لگائی تو وہ احمق ہے۔ جو تو نے بیچا اس پہ قائم رہ یا جو تو نے لیا اسے لوٹا دے۔ قبضہ کوئی چیز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ بیچنے والے سے قبضے کے ساتھ لیا جائے گا ان کی مراد قیمت اور بچے کی قیمت ہے، یہ بعد والے قول کے موافق ہے اور اس حدیث کے (بھی موافق ہے) جو ہم نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الغصب / حدیث: 11548
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»