السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: من غصب جارية فباعها ثم جاء رب الجارية باب: جس شخص نے کوئی لونڈی غصب کی پھر اسے بیچ دیا، پھر اس لونڈی کا اصل مالک آ گیا۔
حدیث نمبر: 11547
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا بَاعَ جَارِيَةً لِأَبِيهِ، وَأَبُوهُ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَبُوهُ أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ، وَقَدْ وَلَدَتْ مِنَ الْمُشْتَرِي، فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَضَى لِلرَّجُلِ بِجَارِيَتِهِ وَأَمَرَ الْمُشْتَرِي أَنْ يَأْخُذَ بَيِّعَهُ بِالْخَلَاصِ، فَلَزِمَهُ، فَقَالَ أَبُو الْبَائِعِ: مُرْهُ فَلْيُخَلِّ عَنِ ابْنِي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَأَنْتَ فَخَلِّ عَنِ ابْنِهِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی ایک لونڈی بیچ دی اور اس کا باپ موجود نہیں تھا، جب وہ آیا تو اس نے انکار کر دیا کہ وہ بیع کو قائم رکھے اور اس کی لونڈی نے خریدنے والے کے پاس بچہ بھی جنم دیا۔ وہ اپنا جھگڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ آپ نے لونڈی والے کے لیے لونڈی کا فیصلہ کیا اور خریدنے والے کو حکم دیا کہ وہ اپنی قیمت واپس لے لے، پس اس نے ایسا ہی کیا۔ بیچنے والے کے باپ نے کہا: ”اسے کہو کہ میرے بیٹے کو چھوڑ دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تو اس کے بیٹے کو چھوڑ دے۔“