السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذْفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى عَنْهُ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ " فَيُقْضَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم نہ ہوں اور نہ ساز و سامان ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا اور اس کے علاوہ دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، پس اس کی نیکیاں ان کو (جس پر ظلم کیا ہوگا) دے دی جائیں گی اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی لیکن ابھی بدلے لینے والے موجود ہوں گے تو ان کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“