حدیث نمبر: 11503
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سَنَةَ أَرْبَعِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا، يَا عِبَادِي إِنَّكُمُ الَّذِينَ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلَا أُبَالِي، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، ⦗١٥٥⦘ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ لَمْ يَزِدْ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمُ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ، لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْبَحْرُ يُغْمَسُ فِيهِ الْمِخْيَطُ غَمْسَةً وَاحِدَةً، يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أَحْفَظُهَا عَلَيْكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْهِرٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہرایا ہے، پس ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم دن رات غلطیاں کرتے ہو، میں غلطیوں کو معاف کرتا ہوں اور مجھے کسی کی پروا نہیں ہے، تم مجھ سے معافی مانگو میں معاف کروں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر جسے میں پہنا دوں، پس مجھ سے پہننے کے لیے مانگو میں تمہیں پہنا دوں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب متقی بن جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ زیادتی نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب برے بن جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ کمی نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور مجھ سے سوال کریں، پھر میں ہر ایک کو اس کی خواہش کے مطابق دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہ آئے گی جتنی سوئی کے ناکے کو سمندر میں ڈبونے سے آتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں میں نے ان کو تمہارے لیے محفوظ کیا ہوا ہے، جو خیر پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ کوئی اور چیز پائے تو وہ اپنے علاوہ کسی اور کو ملامت نہ کرے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11503
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 2577
تخریج حدیث «مسلم 2577»