❮
❯
حدیث نمبر: 11494
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أِيُّ بَلَدٍ "، " أَلَا أِيُّ يَوْمٍ " وَقَالَ: " أَلَا شَهْرُنَا هَذَا "، " أَلَا بَلَدُنَا هَذَا "، " أَلَا يَوْمُنَا هَذَا "، وَزَادَ فِيهِ: " مِنْ شَهْرِكُمْ هَذَا "، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: وَقَالَ: " وَيْحَكُمْ " أَوْ " وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ

ایک سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے، مگر اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو! کون سا شہر“ اور ”سنو! کون سا دن“ اور (لوگوں کے جواب میں) یہ ہے: ”سنو! ہمارا یہ مہینہ“، ”سنو! ہمارا یہ شہر“، ”سنو! ہمارا یہ دن“۔ اور اس میں ”تمہارے اس مہینے میں“ کا اضافہ ہے، اور آخر میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس ہے تم پر“ یا ”ہلاکت ہو تمہارے لیے! میرے بعد تم کفر میں نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے لگ جاؤ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العارية / حدیث: 11494
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»