السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11494
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أِيُّ بَلَدٍ "، " أَلَا أِيُّ يَوْمٍ " وَقَالَ: " أَلَا شَهْرُنَا هَذَا "، " أَلَا بَلَدُنَا هَذَا "، " أَلَا يَوْمُنَا هَذَا "، وَزَادَ فِيهِ: " مِنْ شَهْرِكُمْ هَذَا "، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: وَقَالَ: " وَيْحَكُمْ " أَوْ " وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
ایک سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے، مگر اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو! کون سا شہر“ اور ”سنو! کون سا دن“ اور (لوگوں کے جواب میں) یہ ہے: ”سنو! ہمارا یہ مہینہ“، ”سنو! ہمارا یہ شہر“، ”سنو! ہمارا یہ دن“۔ اور اس میں ”تمہارے اس مہینے میں“ کا اضافہ ہے، اور آخر میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”افسوس ہے تم پر“ یا ”ہلاکت ہو تمہارے لیے! میرے بعد تم کفر میں نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے لگ جاؤ۔“