السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العارية— مانگے کى چیز کا بیان
باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]، وَقَالَ {وَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ} [إبراهيم: 42].اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ”اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔“ [سورة البقرة: 188]
اور فرمایا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ﴾ ”اور ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو ظالم کر رہے ہیں، وہ تو انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں (دہشت سے) کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔“ [سورة إبراهيم: 42]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنِ يُوسُفَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلَا أِيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمَ حُرْمَةً؟ " قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ: " أِيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمَ حُرْمَةً؟ " قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ: " تَعْلَمُونَ أِيَّ يَوْمٍ أَعْظَمَ؟ " قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ: " فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، كَحُرْمَةِ يَوْمِي هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ: أَلَا نَعَمْ.سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”سنو! تم کس مہینے کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ انھوں نے جواب دیا: اپنے اس (ذوالحجہ) مہینے کو۔ پھر فرمایا: ”کس شہر کو زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ انھوں نے جواب دیا: اس شہر (مکہ) کو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو، کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے؟“ انھوں نے کہا: ہمارا یہ دن (حج کا دن)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تم پر حرام کر دیا ہے، تمہارے خون، مال اور عزتوں کو مگر حق کے ساتھ جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر میں، خبردار! کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟“ تین دفعہ پوچھا، سب نے ہاں میں جواب دیا۔