حدیث نمبر: 11465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: عَهِدَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنْ يَقْبِضَ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، وَقَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: هَذَا ابْنُ أَخِي، عَهِدَ إِلِيَّ أَبُوهُ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَإِذَا أَشْبَهُ النَّاسِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي ⦗١٤٣⦘ وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَكَ هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ "؛ مِنْ أَجَلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ "؛ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَذَكَرَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو لے لینا اور عتبہ نے یہ بھی کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ پس جب فتح مکہ کے وقت نبی ﷺ مکہ آئے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو پکڑا اور نبی ﷺ کے پاس لے آئے اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے، اس کے باپ نے مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف دیکھا، وہ عتبہ کے مشابہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے اور تیرے پاس رہے گا؛ اس لیے کہ وہ اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے سودہ! اس سے پردہ کیا کر“؛ اس لیے کہ وہ عتبہ کے مشابہ تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإقرار / حدیث: 11465
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»