السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: إقرار الوارث بوارث باب: ایک وارث کا دوسرے وارث (کے وارث ہونے) کا اقرار کرنے کا بیان۔
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَتَّطِئُهَا، وَكَانَ رَجُلٌ يَتْبَعُهَا يَظُنُّ بِهَا، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَالْجَارِيَةُ حُبْلَى، فَوَلَدَتْ غُلَامًا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ يُظَنُّ بِهَا، فَسَأَلَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَمَّا الْمِيرَاثُ فَهُوَ لَهُ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ " فَإِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَا يُقَاوِمُ إِسْنَادَ الْحَدِيث الْأَوَّلِ؛ لِأَنَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ رُوَاتُهُ مَشْهُورُونَ بِالْحِفْظِ وَالْفِقْهِ وَالْأَمَانَةِ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُخْبِرُ عَنْ تِلْكَ الْقِصَّةِ كَأَنَّهَا شَهِدَتْهَا، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ فِي رُوَاتِهِ مَنْ نُسِبَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ إِلَى سُوءِ الْحِفْظِ، وَهُوَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَفِيهِمْ مَنْ لَا يُعْرَفُ بِسَبَبٍ يَثْبُتُ بِهِ حَدِيثُهُ، وَهُوَ يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ قِيلَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَوِ الزُّبَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْقِصَّةَ لِصِغَرِهِ، فَرِوَايَةُ مَنْ شَهِدَهَا، وَجَمِيعِ مَنْ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِهَا حُفَّاظٌ ثِقَاتٌ مَشْهُورُونَ بِالْفِقْهِ وَالْعَدَالَةِ، أَوْلَى بِالَأخْذِ بِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ. ⦗١٤٤⦘ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ، إِنْ كَانَ قَالَهُ: " فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ شَبَهًا، وَإِنْ كَانَ لَكِ بِحُكْمِ الْفِرَاشِ أَخًا "، فَلَا يَكُونُ قَوْلُهُ: " هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ " مُخَالِفًا؛ فَقَدْ أَلْحَقَهُ بِالْفِرَاشِ حَتَّى حَكَمَ لَهُ بِالْمِيرَاثِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی، وہ اس سے وطی کرتا تھا اور ایک آدمی اس کا پیچھا کرتا تھا، اس کا خیال تھا کہ زمعہ فوت ہو جائے، لونڈی حاملہ ہے۔ اس کا بچہ اس آدمی کے زیادہ مشابہ تھا۔ پس سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میراث اس (زمعہ) کی ہے اور تو اس سے پردہ کیا کر، اس لیے کہ وہ تیرا بھائی نہیں ہے“ اور آپ ﷺ کے اس قول سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ شبیہ میں وہ تیرا بھائی نہیں ہے، اگرچہ بستر کے حکم سے وہ تیرا بھائی ہے۔ لہٰذا یہ اس قول کے مخالف نہیں کہ ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے“۔ پس اس کو ملا دیا بستر والے کے ساتھ جب اس کے لیے میراث کا فیصلہ کیا۔