السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: إقرار الوارث بوارث باب: ایک وارث کا دوسرے وارث (کے وارث ہونے) کا اقرار کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَخِي عُتْبَةَ أَوْصَانِي فَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ؛ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " لَفْظُ حَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ: " هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ ". وَهَذِهِ زِيَادَةٌ مَحْفُوظَةٌ، وَقَدْ رَوَاهَا أَيْضًا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی، اس نے کہا تھا: جب تو مکہ آئے تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو تلاش کر کے لے لینا، اس لیے کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، وہ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی ﷺ نے دیکھا کہ وہ عتبہ کے مشابہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عبد بن زمعہ کے پاس رہے گا۔ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور اے سودہ رضی اللہ عنہا! اس سے پردہ کیا کر۔“
(ب) ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”اے عبد! وہ تیرا بھائی ہے۔“