السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ارتفاق الرجل بجدار غيره بوضع الجذوع عليه بأجرة وغير أجرة باب: کسی آدمی کا دوسرے کی دیوار پر معاوضے کے ساتھ یا بغیر معاوضے کے شہتیر رکھ کر فائدہ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11383
وَأَخْبَرَني أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً، أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صُبَيْحٍ أَخْبَرَهُمْ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنبأ رَوْحٌ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ: " أَرَادَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ أَنْ يَضَعَ خَشَبَتَهُ عَلَى جِدَارِ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَمَنَعَهُ، فَإِذَا مَنْ شِئْتَ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَاهُ أَنْ يَمْنَعَهُ، فَجُبِرَ عَلَى ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ کے ایک آدمی نے ارادہ کیا کہ اپنے شہتیر اپنے پڑوسی کی دیوار پر بغیر اجازت کے رکھے، اس نے اسے منع کر دیا۔ پھر انصاریوں میں سے کسی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایسا کرنے سے منع کیا ہے“، پھر اسے مجبور کیا گیا۔