السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ارتفاق الرجل بجدار غيره بوضع الجذوع عليه بأجرة وغير أجرة باب: کسی آدمی کا دوسرے کی دیوار پر معاوضے کے ساتھ یا بغیر معاوضے کے شہتیر رکھ کر فائدہ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11382
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَلْخِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ لَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ لَا يَمْنَعَ جَارٌ جَارًا أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ ". فَقَالَ الْحَالِفُ: أَيْ أَخِي، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ، وَقَدْ حَلَفْتُ، فَاجْعَلْ أُسْطُوَانَةً دُونَ جُدُرِي، فَفَعَلَ الْآخَرُ، فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانَةِ خَشَبَهُ فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ عَمْرٌو: وَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ. وَقَدْ رَوَاهُ الْعَبَّاسُ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِمَعْنَاهُ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ، وَهُوَ مَنْقُولٌ فِي آخِرِ كِتَابِ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو مغیرہ کے دو بھائی مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کو ملے، انہوں نے کہا: بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”ہمسایہ اپنے ہمسائے کو لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔“ قسم اٹھانے والے نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ تیرے حق میں فیصلہ کر دیا گیا ہے اور میں نے قسم اٹھائی ہے، تو تو میری دیوار کے علاوہ ستون گاڑ لے، تو دوسرے نے ستون میں اپنی لکڑی کو گاڑ لیا۔ حضرت عمرہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ میں نے یہ واقعہ خود سنا ہے۔