❮
❯
حدیث نمبر: 11372
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا فِي خُصٍّ لَهُمْ إِلَى عَلِيٍّ " فَقَضَى بَيْنَهُمْ أَنْ يُنْظَرَ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَبَ مِنَ الْقِمَاطِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سماک رحمہ اللہ اہل بصرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک قوم والے جھونپڑی کا جھگڑا لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ کیا کہ ان میں سے جو رسیوں کے زیادہ قریب ہے وہ حق دار ہے۔
یہ روایت منقطع ہے، اور ولید بن ابی ثور نے اسے سماک سے، انہوں نے حنش سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلح / حدیث: 11372
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»