السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: من استعمل الدلالة فقال: هو للذي إليه الدواخل ومعاقد القمط باب: اس شخص کا قول جس نے نشانیوں سے استدلال کیا اور کہا: دیوار اس کی ہے جس کی طرف اندرونی حصہ اور رسیاں باندھنے کی جگہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 11372
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا فِي خُصٍّ لَهُمْ إِلَى عَلِيٍّ " فَقَضَى بَيْنَهُمْ أَنْ يُنْظَرَ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَبَ مِنَ الْقِمَاطِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سماک رحمہ اللہ اہل بصرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک قوم والے جھونپڑی کا جھگڑا لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ کیا کہ ان میں سے جو رسیوں کے زیادہ قریب ہے وہ حق دار ہے۔