❮
❯
حدیث نمبر: 11352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا ابْنُ زَبَالَةَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى رِوَايَتِهِ؛ فَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَرِوَايَةُ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَى مَا قَبْلَهَا قَوِيَتَا.
حافظ ثناء اللہ

کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے۔“
ابو عامر عقدی نے بھی کثیر بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اعتماد اسی کی روایت پر ہے؛ کیونکہ محمد بن حسن بن زبالہ بالکل ضعیف ہے، اور کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی کی روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلح / حدیث: 11352
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»