السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 11352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا ابْنُ زَبَالَةَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى رِوَايَتِهِ؛ فَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَرِوَايَةُ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَى مَا قَبْلَهَا قَوِيَتَا.حافظ ثناء اللہ
کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے۔“