حدیث نمبر: 11334
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ، يَعْنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ: سَمِعْنَاهُ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ، فَيَلْزَمُنَا نَقُولُ بِهِ، وَالْقُرْآنُ يَدُلُّ عَلَى خِلَافِهِ، ثُمَّ السُّنَّةُ، ثُمَّ الْأَثَرُ، ثُمَّ الْمَعْقُولُ، وَقَالَ فِي مُخْتَصَرِ الْبُوَيْطِيِّ، وَالرَّبِيعُ: قَدْ يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ هَذَا فِي مَوْضِعِ الِاخْتِيَارِ، كَمَا قِيلَ: لَيْسَ لَهَا أَنْ تَصُومَ يَوْمًا وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ فَعَلَتْ فَصَوْمُهَا جَائِزٌ، وَإِنْ خَرَجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَبَاعَتْ فَجَائِزٌ، وَقَدْ أَعْتَقَتْ مَيْمُونَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَدَلَّ هَذَا مَعَ غَيْرِهِ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ قَالَهُ، أَدَبٌ وَاخْتِيَارٌ لَهَا ⦗١٠١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: الطَّرِيقُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ صَحِيحٌ، وَمَنْ أَثْبَتَ أَحَادِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ لَزِمَهُ إِثْبَاتُ هَذَا، إِلَّا أَنَّ الْأَحَادِيثَ الَّتِي مَضَتْ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ أَصَحُّ إِسْنَادًا، وَفِيهَا وَفِي الْآيَاتِ الَّتِي احْتَجَّ بِهَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ دَلَالَةٌ عَلَى نُفُوذِ تَصَرُّفِهَا فِي مَالِهَا دُونَ الزَّوْجِ؛ فَيَكُونُ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَحْمُولًا عَلَى الْأَدَبِ وَالِاخْتِيَارِ كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ہم نے سنی ہے لیکن یہ صحیح سند سے ثابت نہیں، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کے بارے میں بتائیں۔ قرآن میں بھی اس کے خلاف دلائل ہیں، پھر سنت بھی اس کے خلاف ہے، آثارِ صحابہ بھی اس کے خلاف ہیں اور یہ عقل کے بھی خلاف ہے، اور مختصر بویطی اور ربیع میں کہا ہے کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ پسندیدہ فعل ہو جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ”جب عورت کا خاوند گھر پر ہو تو وہ ایک دن کا نفلی روزہ بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہ رکھے“، لیکن اگر وہ روزہ رکھ لے تو جائز ہے اور اگر خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے اور بیع کرے تو جائز ہے، اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی آزاد کی تھی اور نبی ﷺ کو بعد میں پتا چلا تھا لیکن آپ نے کوئی عیب محسوس نہیں کیا۔ اس حدیث سے اور دوسرے دلائل سے بھی ثابت ہوا کہ نبی ﷺ کا مذکورہ فرمان ادب کے لیے ہے اور پسندیدہ ہے اور اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ عورت اپنے مال کا تصرف بالکل نہیں کر سکتی، شیخ صاحب فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند عمرو بن شعیب کے حوالے سے صحیح ہے اور جو شخص عمرو بن شعیب کی احادیث ثابت کرتا ہے مگر گزشتہ باب میں جو احادیث گزری ہیں وہ اصح الاسناد ہیں۔ انہی احادیث اور آیاتِ قرآنی سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل لی ہے کہ عورت اپنے مال کا تصرف بالکل کر سکتی ہے اور اس کا تصرف قبول ہوگا، لیکن خاوند کے مال میں کسی قسم کا تصرف نہیں کر سکتی لہٰذا عمرو بن شعیب کی حدیث ادب اور اختیار پر محمول ہوگی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11334