حدیث نمبر: 11316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ: " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَشَكُّوْا فِيَّ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْظَرَ إِلِيَّ: هَلْ أَنَبَتُّ؟ فَنَظَرُوا إِلِيَّ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریظہ والے دن مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، انہیں میرے بارے میں شک ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”اس کے زیر ناف بال دیکھو، آیا بال اگے ہیں یا نہیں!“ انہوں نے مجھے دیکھا تو بال نہیں اگے تھے، انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کرلیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11316