حدیث نمبر: 11315
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّقَّاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٩٧⦘ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ قَالَ: " كُنْتُ مِنْ سَبْيِ قُرَيْظَةَ، وَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنَبْتَ الشَّعْرَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتِ الشَّعْرَ لَمْ يُقْتَلْ، وَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ دیکھتے تھے جس کے زیرِ ناف بال اگ آئے ہوتے اسے قتل کر دیتے اور جس کے نہیں اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیتے تھے، تو میں ان میں سے تھا جس کے بال ابھی نہیں اگے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11315