حدیث نمبر: 11317
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ قَالَ: " عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنَّا مُحْتَلِمًا، أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ، قُتِلَ قَالَ: فَنَظَرُوا إِلِيَّ فَلَمْ تَكُنْ نَبَتَتْ عَانَتِي، فَتُرِكْتُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم قریظہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیے گئے تو جو شخص احتلام والا ہوتا یا اس کے زیرِ ناف بال اگ گئے ہوتے وہ اسے قتل کر دیتے؛ فرماتے ہیں: انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحجر / حدیث: 11317